يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: " أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: كُنَّا نُحَامِلُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ، قَالَ: وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَيْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِيَاءً، فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79، وَلَمْ يَلْفِظْ بِشْرٌ بِالْمُطَّوِّعِينَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن معین اور بشر بن خالد نے۔ لفظ بشر کے ہیں۔ حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن جعفر (غندر) نے خبر دی، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے سلیمان سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کہا: ہم بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ کہا: ابوعقیل رضی اللہ عنہ نے آدھا صاع صدقہ کیا۔ ایک دوسرا انسان اس سے زیادہ کوئی چیز لایا تو منافقوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے غنی ہے اور اس دوسرے نے محض دکھلاوا کیا ہے، اس پر یہ آیت مبارکہ اتری: «الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لَا یَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ» ”وہ لوگ جو صدقات کے معاملے میں دل کھول کر دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت (کی اجرت) کے سوا کچھ نہیں پاتے۔“ بشر نے ’المطوعین‘ (اور بعد کے) الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2355]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة