بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہر نیکی صدقہ ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: ہر نیکی صدقہ ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 1005 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ قتیبہ کی حدیث میں ہے: "تمھارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا" اور ابن ابی شیبہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے۔۔۔ "ہر نیکی صدقہ ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2328]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2328 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ قتیبہ کی حدیث میں ہے: "تمھارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا" اور ابن ابی شیبہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے۔۔۔ "ہر نیکی صدقہ ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2328]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1006 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَاصِلٌ ، يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ: " أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ، إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ، وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: "اے اللہ کے رسول! زیادہ مال رکھنے والے اجر و ثواب لے گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے ضرورت سے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں (جو ہم نہیں کرسکتے)۔" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "کیا اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے ایسی چیز نہیں بنائی جس سے تم صدقہ کرسکو؟ بے شک ہر دفعہ «سبحان اللہ» کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ «اللہ اکبر» کہنا صدقہ ہے۔ ہر دفعہ «الحمد للہ» کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ «لا إله إلا اللہ» کہنا صدقہ ہے، نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور (بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے) تمھارے عضو میں صدقہ ہے۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "بتاؤ، اگر وہ یہ (خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2329]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2329 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَاصِلٌ ، يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ: " أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ، إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ، وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: "اے اللہ کے رسول! زیادہ مال رکھنے والے اجر و ثواب لے گئے، وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے ضرورت سے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں (جو ہم نہیں کرسکتے)۔" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "کیا اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے ایسی چیز نہیں بنائی جس سے تم صدقہ کرسکو؟ بے شک ہر دفعہ «سبحان اللہ» کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ «اللہ اکبر» کہنا صدقہ ہے۔ ہر دفعہ «الحمد للہ» کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ «لا إله إلا اللہ» کہنا صدقہ ہے، نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور (بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے) تمھارے عضو میں صدقہ ہے۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "بتاؤ، اگر وہ یہ (خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2329]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1007 صحیح مسلم
حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، زَيْدٍ ، أَبَا سَلَّامٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ، وَحَمِدَ اللَّهَ، وَهَلَّلَ اللَّهَ، وَسَبَّحَ اللَّهَ، وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ شَوْكَةً، أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةِ السُّلَامَى، فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ "، قَالَ أَبُو تَوْبَةَ: وَرُبَّمَا قَالَ: " يُمْسِي "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوتوبہ ربیع بن نافع نے بیان کیا، کہا: ہمیں معاویہ بن سلام نے زید سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوسلام کو بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ مفاصل (جوڑوں) پر پیدا کیاگیا ہے تو جس نے تکبیر کہی، اللہ کی حمد کہی، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا، اللہ کی تسبیح کہی، اللہ سے مغفرت مانگی، لوگوں کے راستے سے کوئی پتھر ہٹایا، لوگوں کے راستے سے کانٹا یا ہڈی (ہٹائی)، نیکی کا حکم دیا یا برائی سے روکا، ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد ے برابر تو وہ اس دن اس طرح چلے گا کہ وہ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے دور کرچکا ہوگا۔" ابوتوبہ نے کہا: بسا اوقات انہوں (معاویہ) نے (’یمشی‘ ’چلے گا‘ کے بجائے) ’یمسی‘ (شام یا دن کا اختتام کرے گا) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2330]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2330 صحیح مسلم
حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، زَيْدٍ ، أَبَا سَلَّامٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ، وَحَمِدَ اللَّهَ، وَهَلَّلَ اللَّهَ، وَسَبَّحَ اللَّهَ، وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ شَوْكَةً، أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةِ السُّلَامَى، فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ "، قَالَ أَبُو تَوْبَةَ: وَرُبَّمَا قَالَ: " يُمْسِي "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوتوبہ ربیع بن نافع نے بیان کیا، کہا: ہمیں معاویہ بن سلام نے زید سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوسلام کو بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ مفاصل (جوڑوں) پر پیدا کیاگیا ہے تو جس نے تکبیر کہی، اللہ کی حمد کہی، اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا، اللہ کی تسبیح کہی، اللہ سے مغفرت مانگی، لوگوں کے راستے سے کوئی پتھر ہٹایا، لوگوں کے راستے سے کانٹا یا ہڈی (ہٹائی)، نیکی کا حکم دیا یا برائی سے روکا، ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد ے برابر تو وہ اس دن اس طرح چلے گا کہ وہ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے دور کرچکا ہوگا۔" ابوتوبہ نے کہا: بسا اوقات انہوں (معاویہ) نے (’یمشی‘ ’چلے گا‘ کے بجائے) ’یمسی‘ (شام یا دن کا اختتام کرے گا) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2330]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1007 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، مُعَاوِيَةُ ، زَيْدٌ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، أَخْبَرَنِي أَخِي زَيْدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ "، وَقَالَ: " فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن حسان نے کہا: ہمیں معاویہ (بن سلام) نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے زید کے بھائی نے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کی مانند خبر دی مگر انہوں نے کہا: امر بالمعروف یا نیکی کا حکم دیا۔ اور کہا: «فإنه يمسي يومئذ» وہ اس دن اس حالت میں شام کرے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2331]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2331 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، مُعَاوِيَةُ ، زَيْدٌ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، أَخْبَرَنِي أَخِي زَيْدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ "، وَقَالَ: " فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن حسان نے کہا: ہمیں معاویہ (بن سلام) نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے زید کے بھائی نے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کی مانند خبر دی مگر انہوں نے کہا: امر بالمعروف یا نیکی کا حکم دیا۔ اور کہا: «فإنه يمسي يومئذ» وہ اس دن اس حالت میں شام کرے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2331]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1007 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ "، بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ زَيْدٍ، وَقَالَ: " فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ نے زید بن سلام سے اور انہوں نے اپنے دادا ابو سلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔۔۔ آگے زید سے معاویہ کی روایت کے مانند بیان کیا اور کہا: «فإنه يمشي يومئذ» وہ اس دن چلے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2332]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2332 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ "، بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ زَيْدٍ، وَقَالَ: " فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ نے زید بن سلام سے اور انہوں نے اپنے دادا ابو سلام سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن فروخ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔۔۔ آگے زید سے معاویہ کی روایت کے مانند بیان کیا اور کہا: «فإنه يمشي يومئذ» وہ اس دن چلے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2332]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1008 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، شُعْبَةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ "، قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ؟، قَالَ: يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ، قَالَ: قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟، قَالَ: يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ "، قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟، قَالَ: يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟، قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو اسامہ نے شعبہ سے، انہوں نے سعید بن ابی بردہ سے، انہوں نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ کہا گیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر اسے (صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز) نہ ملے؟ فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کر کے اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ (بھی) کرے۔ اس نے کہا: عرض کی گئی، آپ کیا فرماتے ہیں اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھے؟ فرمایا: بے بس ضرورت مند کی مدد کرے۔ کہا: آپ سے کہا گیا: دیکھیے! اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھے؟ فرمایا: نیکی یا بھلائی کا حکم دے۔ کہا: دیکھیے اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے؟ فرمایا: وہ (اپنے آپ کو) شر سے روک لے، یہ بھی صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2333]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2333 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، شُعْبَةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ "، قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ؟، قَالَ: يَعْتَمِلُ بِيَدَيْهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ، قَالَ: قِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟، قَالَ: يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ "، قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟، قَالَ: يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ أَوِ الْخَيْرِ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟، قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابو اسامہ نے شعبہ سے، انہوں نے سعید بن ابی بردہ سے، انہوں نے اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ کہا گیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر اسے (صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز) نہ ملے؟ فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کر کے اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ (بھی) کرے۔ اس نے کہا: عرض کی گئی، آپ کیا فرماتے ہیں اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھے؟ فرمایا: بے بس ضرورت مند کی مدد کرے۔ کہا: آپ سے کہا گیا: دیکھیے! اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھے؟ فرمایا: نیکی یا بھلائی کا حکم دے۔ کہا: دیکھیے اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے؟ فرمایا: وہ (اپنے آپ کو) شر سے روک لے، یہ بھی صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2333]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1008 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2334]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2334 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2334]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1009 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ "، قَالَ: تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا، أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، قَالَ: وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیں۔ انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے ہر جوڑ پر ہر روز، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، صدقہ ہے۔ فرمایا: تم دو (آدمیوں) کے درمیان عدل کرو، (یہ) صدقہ ہے۔ اور تمہارا کسی آدمی کی، اس کے جانور کے متعلق مدد کرنا کہ اسے اس پر سوار کرا دو یا اس کی خاطر سواری پر اس کا سامان اٹھا کر رکھو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔ فرمایا: اچھی بات صدقہ ہے اور ہر قدم جس سے تم مسجد کی طرف چلتے ہو، صدقہ ہے اور تم راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2335]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2335 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ "، قَالَ: تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا، أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، قَالَ: وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیں۔ انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے ہر جوڑ پر ہر روز، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، صدقہ ہے۔ فرمایا: تم دو (آدمیوں) کے درمیان عدل کرو، (یہ) صدقہ ہے۔ اور تمہارا کسی آدمی کی، اس کے جانور کے متعلق مدد کرنا کہ اسے اس پر سوار کرا دو یا اس کی خاطر سواری پر اس کا سامان اٹھا کر رکھو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔ فرمایا: اچھی بات صدقہ ہے اور ہر قدم جس سے تم مسجد کی طرف چلتے ہو، صدقہ ہے اور تم راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو، (یہ بھی) صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2335]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة