بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مال کو خزانہ بنانے والوں کے بارے میں اور ان کو ڈانٹ۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: مال کو خزانہ بنانے والوں کے بارے میں اور ان کو ڈانٹ۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 992 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، رَجُلٌ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ، أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفَيْهِ، وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفَيْهِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ، قَالَ: فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: فَأَدْبَرَ، وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا قُلْتَ لَهُمْ، قَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ " أَتَرَى أُحُدًا "، فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَقُلْتُ: أَرَاهُ، فَقَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ، إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، ثُمَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا "، قَالَ: قُلْتُ: مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ، لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ، قَالَ: لَا وَرَبِّكَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا، وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعلاء نے حضرت احنف بن قیس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مدینہ آیا تو میں قریشی سرداروں کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کھردرے کپڑوں، گٹھے ہوئے جسم اور سخت چہرے والا ایک آدمی آیا اور ان کے سر پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: مال و دولت جمع کرنے والوں کو اس تپتے ہوئے پتھر کی بشارت سنا دو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اسے ان کے ایک فرد کی نوک پستان پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کی باریک ہڈیوں سے لہراتا ہوا نکل جائے گا اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکل جائے گا۔ (احنف نے) کہا: اس پر لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ اس نے کوئی جواب دیا ہو۔ کہا: پھر وہ لوٹا اور میں نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے ساتھ (ٹیک لگا کر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: آپ نے انہیں جو کچھ کہا ہے، میں نے انہیں اسے ناپسند کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ لوگ کچھ سمجھتے نہیں۔ میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے لبیک کہا تو آپ نے فرمایا: ’کیا تم احد (پہاڑ) کو دیکھتے ہو؟‘ میں نے دیکھا کہ مجھ پر کتنا سورج باقی ہے، میں سمجھ رہا تھا کہ آپ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں، چنانچہ میں نے عرض کی: ’میں اسے دیکھ رہا ہوں۔‘ تو آپ نے فرمایا: ’میرے لیے یہ بات باعث مسرت نہ ہو گی کہ میرے پاس اس کے برابر سونا ہو اور میں تین دیناروں کے سوا اس سارے (سونے) کو خرچ (بھی) کر ڈالوں۔‘ پھر یہ لوگ ہیں، دنیا جمع کرتے ہیں، کچھ عقل نہیں کرتے۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ کا اپنے (حکمران) قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے، آپ اپنی ضرورت کے لیے نہ ان کے پاس جاتے ہیں اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کوئی چیز مانگوں گا اور نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلے کے بارے میں پوچھوں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2306]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2306 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، رَجُلٌ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ، أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفَيْهِ، وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفَيْهِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ، قَالَ: فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: فَأَدْبَرَ، وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا قُلْتَ لَهُمْ، قَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ " أَتَرَى أُحُدًا "، فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَقُلْتُ: أَرَاهُ، فَقَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ، إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، ثُمَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا "، قَالَ: قُلْتُ: مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ، لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ، قَالَ: لَا وَرَبِّكَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا، وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعلاء نے حضرت احنف بن قیس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مدینہ آیا تو میں قریشی سرداروں کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کھردرے کپڑوں، گٹھے ہوئے جسم اور سخت چہرے والا ایک آدمی آیا اور ان کے سر پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: مال و دولت جمع کرنے والوں کو اس تپتے ہوئے پتھر کی بشارت سنا دو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اسے ان کے ایک فرد کی نوک پستان پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کی باریک ہڈیوں سے لہراتا ہوا نکل جائے گا اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکل جائے گا۔ (احنف نے) کہا: اس پر لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ اس نے کوئی جواب دیا ہو۔ کہا: پھر وہ لوٹا اور میں نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے ساتھ (ٹیک لگا کر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: آپ نے انہیں جو کچھ کہا ہے، میں نے انہیں اسے ناپسند کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ لوگ کچھ سمجھتے نہیں۔ میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے لبیک کہا تو آپ نے فرمایا: ’کیا تم احد (پہاڑ) کو دیکھتے ہو؟‘ میں نے دیکھا کہ مجھ پر کتنا سورج باقی ہے، میں سمجھ رہا تھا کہ آپ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں، چنانچہ میں نے عرض کی: ’میں اسے دیکھ رہا ہوں۔‘ تو آپ نے فرمایا: ’میرے لیے یہ بات باعث مسرت نہ ہو گی کہ میرے پاس اس کے برابر سونا ہو اور میں تین دیناروں کے سوا اس سارے (سونے) کو خرچ (بھی) کر ڈالوں۔‘ پھر یہ لوگ ہیں، دنیا جمع کرتے ہیں، کچھ عقل نہیں کرتے۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ کا اپنے (حکمران) قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے، آپ اپنی ضرورت کے لیے نہ ان کے پاس جاتے ہیں اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کوئی چیز مانگوں گا اور نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلے کے بارے میں پوچھوں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2306]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 992 صحیح مسلم
شَيْبَانُ ابْنُ فَرُّوخَ ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبُو ذَرٍّ
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ ابْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: " بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِكَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ، يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ، يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ "، قَالَ: ثُمَّ تَنَحَّى، فَقَعَدَ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: هَذَا أَبُو ذَرٍّ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قُبَيْلُ، قَالَ: " مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟، قَالَ: " خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خلید العصری نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں قریش کی ایک جماعت میں موجود تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے گزرے: مال جمع کرنے والوں کو (آگ کے) ان داغوں کی بشارت سنا دو جو ان کی پشتوں پر لگائے جائیں گے اور ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان داغوں کی جو ان کی گدیوں کی طرف سے لگائے جائیں گے اور ان کی پیشانیوں سے نکلیں گے۔ کہا: پھر وہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا: یہ صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور پوچھا: کیا بات تھی، تھوڑی دیر پہلے میں نے سنی آپ کہہ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اس بات کے سوا کچھ نہیں کہا جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی۔ کہا: میں نے پوچھا: (حکومت سے ملنے والے) عطیے (وظیفے) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اسے لے لو کیونکہ آج یہ معونت (مدد) سے اور جب یہ تمہارے دین کی قیمت ٹھہریں تو انہیں چھوڑ دینا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2307]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2307 صحیح مسلم
شَيْبَانُ ابْنُ فَرُّوخَ ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبُو ذَرٍّ
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ ابْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: " بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِكَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ، يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ، يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ "، قَالَ: ثُمَّ تَنَحَّى، فَقَعَدَ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: هَذَا أَبُو ذَرٍّ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قُبَيْلُ، قَالَ: " مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟، قَالَ: " خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خلید العصری نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں قریش کی ایک جماعت میں موجود تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے گزرے: مال جمع کرنے والوں کو (آگ کے) ان داغوں کی بشارت سنا دو جو ان کی پشتوں پر لگائے جائیں گے اور ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان داغوں کی جو ان کی گدیوں کی طرف سے لگائے جائیں گے اور ان کی پیشانیوں سے نکلیں گے۔ کہا: پھر وہ الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا: یہ صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور پوچھا: کیا بات تھی، تھوڑی دیر پہلے میں نے سنی آپ کہہ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اس بات کے سوا کچھ نہیں کہا جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی۔ کہا: میں نے پوچھا: (حکومت سے ملنے والے) عطیے (وظیفے) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اسے لے لو کیونکہ آج یہ معونت (مدد) سے اور جب یہ تمہارے دین کی قیمت ٹھہریں تو انہیں چھوڑ دینا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2307]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة