بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صدقہ کی ترغیب دینا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: صدقہ کی ترغیب دینا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 94 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً، عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَهَكَذَا عَنْ شِمَالِهِ "، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، قَالَ: سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ، قَالَ: فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ، قَالَ: فَقَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: (ایک رات) عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کالی پتھریلی زمین پر چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حاضر ہوں! فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ (کوہ) احد میرے پاس سونے کا ہو اور میں اس حالت میں تیسری شام کروں کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں نے قرض (کی ادائیگی) کے لیے بچایا ہو، اور میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح (خرچ) کروں۔ آپ نے اپنے سامنے دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالنے کا اشارہ کیا۔ اس طرح (خرچ) کروں۔ دائیں طرف سے۔۔۔ اس طرح۔۔۔ بائیں طرف سے۔۔۔ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ہم چلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حاضر ہوں! آپ نے فرمایا: یقیناً زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح (خرچ) کیا۔ جس طرح آپ نے پہلی بار کیا تھا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پھر چلے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوذر! میرے واپس آنے تک اسی حالت میں ٹھہرے رہنا۔ کہا: آپ چلے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ میں نے شور سا سنا آواز سنی تو میں نے دل میں کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی چیز پیش آ گئی ہے، چنانچہ میں نے پیچھے جانے کا ارادہ کر لیا پھر مجھے آپ کا یہ فرمان یاد آ گیا: میرے آنے تک یہاں سے نہ ہٹنا۔ تو میں نے آپ کا انتظار کیا، جب آپ واپس تشریف لائے تو میں نے جو (کچھ) سنا تھا آپ کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ انہوں نے کہا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2304]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2304 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً، عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَهَكَذَا عَنْ شِمَالِهِ "، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، قَالَ: سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ، قَالَ: فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ، قَالَ: فَقَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: (ایک رات) عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کالی پتھریلی زمین پر چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حاضر ہوں! فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ (کوہ) احد میرے پاس سونے کا ہو اور میں اس حالت میں تیسری شام کروں کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں نے قرض (کی ادائیگی) کے لیے بچایا ہو، اور میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح (خرچ) کروں۔ آپ نے اپنے سامنے دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالنے کا اشارہ کیا۔ اس طرح (خرچ) کروں۔ دائیں طرف سے۔۔۔ اس طرح۔۔۔ بائیں طرف سے۔۔۔ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ہم چلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حاضر ہوں! آپ نے فرمایا: یقیناً زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح (خرچ) کیا۔ جس طرح آپ نے پہلی بار کیا تھا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پھر چلے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوذر! میرے واپس آنے تک اسی حالت میں ٹھہرے رہنا۔ کہا: آپ چلے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ میں نے شور سا سنا آواز سنی تو میں نے دل میں کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی چیز پیش آ گئی ہے، چنانچہ میں نے پیچھے جانے کا ارادہ کر لیا پھر مجھے آپ کا یہ فرمان یاد آ گیا: میرے آنے تک یہاں سے نہ ہٹنا۔ تو میں نے آپ کا انتظار کیا، جب آپ واپس تشریف لائے تو میں نے جو (کچھ) سنا تھا آپ کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ انہوں نے کہا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2304]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 94 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ، قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ، فَالْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ "، فَقُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ "، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا "، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: " اجْلِسْ هَا هُنَا "، قَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ، فَقَالَ لِي: " اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ، فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ، وَهُوَ يَقُولُ: " وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى "، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا، قَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، فَقَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن رفیع نے زید بن وہب سے اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک رات (گھر سے) باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکیلے جا رہے ہیں، آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں تو میں نے خیال کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کر رہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے، چنانچہ میں چاند کے سائے میں چلنے لگا، آپ مڑے تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی: ابوذر ہوں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر، آ جاؤ۔ کہا: میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا تو آپ نے فرمایا: بے شک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، سوائے ان کے جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا اور انہوں نے اسے دائیں، بائیں اور آگے، پیچھے اڑا ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کیے۔ میں ایک گھڑی آپ کے ساتھ چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہاں بیٹھ جاؤ۔ آپ نے مجھے ایک ہموار زمین میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا: یہیں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔ آپ پتھریلے میدان (حرہ) میں چل پڑے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے، آپ مجھ سے دور رکے رہے اور زیادہ دیر کر دی، پھر میں نے آپ کی آواز سنی جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرما رہے تھے: خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو۔ جب آپ تشریف لائے تو میں صبر نہ کر سکا، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار فرمائے! آپ سیاہ پتھروں کے میدان (حرہ) کے کنارے کس سے گفتگو فرما رہے تھے؟ میں نے تو کسی کو نہیں سنا جو آپ کو جواب دے رہا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا: اپنی امت کو بشارت دے دیجیے کہ جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے جبرائیل علیہ السلام! چاہے اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! فرمایا: میں نے پھر کہا: خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے پھر (تیسری بار) پوچھا: خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، خواہ اس نے شراب (بھی) پی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2305]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2305 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ، قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ، فَالْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ "، فَقُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ "، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا "، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ: " اجْلِسْ هَا هُنَا "، قَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ، فَقَالَ لِي: " اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ، فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ، وَهُوَ يَقُولُ: " وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى "، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا، قَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، فَقَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن رفیع نے زید بن وہب سے اور انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک رات (گھر سے) باہر نکلا تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکیلے جا رہے ہیں، آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں تو میں نے خیال کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کر رہے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے، چنانچہ میں چاند کے سائے میں چلنے لگا، آپ مڑے تو مجھے دیکھ لیا اور فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی: ابوذر ہوں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر، آ جاؤ۔ کہا: میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا تو آپ نے فرمایا: بے شک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، سوائے ان کے جن کو اللہ نے مال عطا فرمایا اور انہوں نے اسے دائیں، بائیں اور آگے، پیچھے اڑا ڈالا اور اس میں نیکی کے کام کیے۔ میں ایک گھڑی آپ کے ساتھ چلتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہاں بیٹھ جاؤ۔ آپ نے مجھے ایک ہموار زمین میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا: یہیں بیٹھے رہنا یہاں تک کہ میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔ آپ پتھریلے میدان (حرہ) میں چل پڑے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے، آپ مجھ سے دور رکے رہے اور زیادہ دیر کر دی، پھر میں نے آپ کی آواز سنی جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری طرف آتے ہوئے فرما رہے تھے: خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو۔ جب آپ تشریف لائے تو میں صبر نہ کر سکا، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار فرمائے! آپ سیاہ پتھروں کے میدان (حرہ) کے کنارے کس سے گفتگو فرما رہے تھے؟ میں نے تو کسی کو نہیں سنا جو آپ کو جواب دے رہا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو سیاہ پتھروں کے کنارے میرے سامنے آئے اور کہا: اپنی امت کو بشارت دے دیجیے کہ جو کوئی اس حالت میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے جبرائیل علیہ السلام! چاہے اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! فرمایا: میں نے پھر کہا: خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے پھر (تیسری بار) پوچھا: خواہ اس نے چوری کی ہو خواہ اس نے زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، خواہ اس نے شراب (بھی) پی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2305]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة