بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2304 — باب: صدقہ کی ترغیب دینا۔
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: صدقہ کی ترغیب دینا۔ حدیث 2304
حدیث نمبر: 2304 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً، عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَهَكَذَا عَنْ شِمَالِهِ "، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، قَالَ: سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ، قَالَ: فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ، قَالَ: فَقَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: (ایک رات) عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کالی پتھریلی زمین پر چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حاضر ہوں! فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ (کوہ) احد میرے پاس سونے کا ہو اور میں اس حالت میں تیسری شام کروں کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں نے قرض (کی ادائیگی) کے لیے بچایا ہو، اور میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح (خرچ) کروں۔ آپ نے اپنے سامنے دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالنے کا اشارہ کیا۔ اس طرح (خرچ) کروں۔ دائیں طرف سے۔۔۔ اس طرح۔۔۔ بائیں طرف سے۔۔۔ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ہم چلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حاضر ہوں! آپ نے فرمایا: یقیناً زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح (خرچ) کیا۔ جس طرح آپ نے پہلی بار کیا تھا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پھر چلے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوذر! میرے واپس آنے تک اسی حالت میں ٹھہرے رہنا۔ کہا: آپ چلے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ میں نے شور سا سنا آواز سنی تو میں نے دل میں کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی چیز پیش آ گئی ہے، چنانچہ میں نے پیچھے جانے کا ارادہ کر لیا پھر مجھے آپ کا یہ فرمان یاد آ گیا: میرے آنے تک یہاں سے نہ ہٹنا۔ تو میں نے آپ کا انتظار کیا، جب آپ واپس تشریف لائے تو میں نے جو (کچھ) سنا تھا آپ کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ انہوں نے کہا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2304]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2303) باب پر واپس اگلی حدیث (2305) →