بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز خسوف میں عذاب قبر کا ذکر۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سورج اور چاند گرہن کے احکام باب: نماز خسوف میں عذاب قبر کا ذکر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 903 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، يَحْيَى ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ؟ قَالَتْ عَمْرَةُ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَائِذًا بِاللَّهِ "، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُصَلَّاهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ، فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ". قَالَتْ عَمْرَةُ: فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے یحییٰ (بن سعید) سے اور انہوں نے عمرہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مانگنے کے لیے آئی۔ اس نے آ کر (کہا): اللہ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں عذاب ہوگا؟ عمرہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک صبح کسی سواری پر سوار ہو کر نکلے تو سورج کو گرہن لگ گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں بھی عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان سے نکل کر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے (اتر کر) نماز پڑھنے کی اس جگہ پر آئے جہاں آپ نماز پڑھایا کرتے تھے، آپ کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر آپ نے لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر (رکوع سے) سر اٹھایا اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔ اور پھر (رکوع سے) سر اٹھایا تو سورج روشن ہو چکا تھا، پھر (نماز سے فراغت کے بعد) آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔ عمرہ نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کرتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2098]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2098 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، يَحْيَى ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ؟ قَالَتْ عَمْرَةُ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَائِذًا بِاللَّهِ "، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُصَلَّاهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ، فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ". قَالَتْ عَمْرَةُ: فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے یحییٰ (بن سعید) سے اور انہوں نے عمرہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مانگنے کے لیے آئی۔ اس نے آ کر (کہا): اللہ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں عذاب ہوگا؟ عمرہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک صبح کسی سواری پر سوار ہو کر نکلے تو سورج کو گرہن لگ گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں بھی عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان سے نکل کر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے (اتر کر) نماز پڑھنے کی اس جگہ پر آئے جہاں آپ نماز پڑھایا کرتے تھے، آپ کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر آپ نے لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر (رکوع سے) سر اٹھایا اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔ اور پھر (رکوع سے) سر اٹھایا تو سورج روشن ہو چکا تھا، پھر (نماز سے فراغت کے بعد) آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔ عمرہ نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کرتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2098]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 903 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوہاب اور سفیان نے یحییٰ (بن سعید) سے اسی سند کے ساتھ سلیمان بن بلال کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2099]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2099 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوہاب اور سفیان نے یحییٰ (بن سعید) سے اسی سند کے ساتھ سلیمان بن بلال کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2099]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة