بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جب وہ تجارت یا کوئی اور شکل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے اکیلا چھوڑ جاتے ہیں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جمعہ کے احکام و مسائل باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جب وہ تجارت یا کوئی اور شکل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے اکیلا چھوڑ جاتے ہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 863 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنْ الشَّامِ فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا، حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے حصین بن عبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آ گیا، لوگوں نے اس کا رخ کر لیا حتیٰ کہ پیچھے بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا تو یہ آیت نازل کی گئی جو سورہ جمعہ میں ہے: اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 1997]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1997 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنْ الشَّامِ فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا، حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے حصین بن عبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آ گیا، لوگوں نے اس کا رخ کر لیا حتیٰ کہ پیچھے بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا تو یہ آیت نازل کی گئی جو سورہ جمعہ میں ہے: اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 1997]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 863 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حُصَيْنٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: (جب تجارتی قافلہ آیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ یہ نہیں کہا: کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 1998]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1998 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حُصَيْنٍ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: (جب تجارتی قافلہ آیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ یہ نہیں کہا: کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 1998]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 863 صحیح مسلم
رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، حُصَيْنٍ ، سَالِمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا أَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد طحان نے حصین سے روایت کی، انہوں نے سالم اور ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا بازار (سامان بیچنے والوں کا قافلہ) آ گیا تو لوگ اس کی طرف نکل گئے اور (صرف) بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا، میں بھی ان میں تھا، کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 1999]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1999 صحیح مسلم
رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، حُصَيْنٍ ، سَالِمٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا أَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد طحان نے حصین سے روایت کی، انہوں نے سالم اور ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا بازار (سامان بیچنے والوں کا قافلہ) آ گیا تو لوگ اس کی طرف نکل گئے اور (صرف) بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا، میں بھی ان میں تھا، کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 1999]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 863 صحیح مسلم
إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، أَبِي سُفْيَانَ ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے ابوسفیان اور سالم بن ابی جعد سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے بیان کیا، ایک بار جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوئے (خطبہ دے رہے) تھے کہ ایک تجارتی قافلہ مدینہ آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی اس کی طرف لپک پڑے حتیٰ کہ آپ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا۔ ان میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ کہا: تو (اس پر) یہ آیت اتری: اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2000]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2000 صحیح مسلم
إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، أَبِي سُفْيَانَ ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے ابوسفیان اور سالم بن ابی جعد سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے بیان کیا، ایک بار جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوئے (خطبہ دے رہے) تھے کہ ایک تجارتی قافلہ مدینہ آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی اس کی طرف لپک پڑے حتیٰ کہ آپ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا۔ ان میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ کہا: تو (اس پر) یہ آیت اتری: اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2000]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 864 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أم الحكم يخطب قاعدا، فقال: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں آئے، دیکھا کہ (اموی والی) عبدالرحمان بن ام حکیم بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، انہوں نے فرمایا: اس خبیث کو دیکھو، بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو ادھر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2001]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2001 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أم الحكم يخطب قاعدا، فقال: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں آئے، دیکھا کہ (اموی والی) عبدالرحمان بن ام حکیم بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، انہوں نے فرمایا: اس خبیث کو دیکھو، بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو ادھر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2001]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة