إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، أَبِي سُفْيَانَ ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے ابوسفیان اور سالم بن ابی جعد سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے بیان کیا، ایک بار جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوئے (خطبہ دے رہے) تھے کہ ایک تجارتی قافلہ مدینہ آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی اس کی طرف لپک پڑے حتیٰ کہ آپ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا۔ ان میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ کہا: تو (اس پر) یہ آیت اتری: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 2000]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة