يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ أَيُّوبَ، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ: كَإِذْنِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے کہا: ہمیں اسماعیل بن جعفر نے محمد بن عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث کی طرح روایت بیان کی مگر ابن ایوب نے اپنی روایت میں ( «كاذنه» کے بجائے) «كأذنه» (جس طرح وہ اجازت دیتا ہے) کہا۔ اس (طرح «ما اذن الله» کا معنی ہو گا اللہ تعالیٰ نے (باریابی کی اجازت نہیں دی)۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1850]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة