بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تہجد میں لمبی قرأت کا مستحب ہونا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام باب: تہجد میں لمبی قرأت کا مستحب ہونا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 772 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، الأَعْمَشِ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، الأَعْمَشُ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا، إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا، تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا، قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِه "، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ اور جریر سب نے اعمش سے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے مستورد بن احنف سے، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورہ بقرہ کا آغاز فرمایا، میں نے (دل میں) کہا: آپ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے مگر آپ آگے بڑھ گئے، میں نے کہا: آپ اسے (پوری) رکعت میں پڑھیں گے، آپ آگے پڑھتے گئے، میں نے سوچا، اسے پڑھ کر رکوع کریں گے مگر آپ نے سورہ نساء شروع کر دی، آپ نے وہ پوری پڑھی، پھر آپ نے آل عمران شروع کر دی، اس کو پورا پڑھا، آپ ٹھر ٹھر کر قرائت فرماتے رہے، جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہے تو سبحان اللہ کہتے اور جب سوال (کرنے والی آیت) سے گزرتے (پڑھتے) تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو (اللہ سے) پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع فرمایا اور سبحان ربی العظیم کہنے لگے، آپ کا رکوع (تقریباً) آپ کے قیام جتنا تھا۔ پھر آپ نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا، پھر آپ لمبی دیر کھڑے رہے، تقریباً اتنی دیر جتنی دیر رکوع کیا تھا، پھر سجدہ کیا اور سبحان ربی الأعلى کہنے لگے اور آپ کا سجدہ (بھی) آپ کے قیام کے قریب تھا۔ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے کہا: (سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لك الحمد یعنی ربنا لك الحمد کا اضافہ ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1814]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1814 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، الأَعْمَشِ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، الأَعْمَشُ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، حُذَيْفَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَى، فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا، إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا، تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا، قَرِيبًا مِمَّا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى، فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِه "، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ اور جریر سب نے اعمش سے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے مستورد بن احنف سے، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورہ بقرہ کا آغاز فرمایا، میں نے (دل میں) کہا: آپ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے مگر آپ آگے بڑھ گئے، میں نے کہا: آپ اسے (پوری) رکعت میں پڑھیں گے، آپ آگے پڑھتے گئے، میں نے سوچا، اسے پڑھ کر رکوع کریں گے مگر آپ نے سورہ نساء شروع کر دی، آپ نے وہ پوری پڑھی، پھر آپ نے آل عمران شروع کر دی، اس کو پورا پڑھا، آپ ٹھر ٹھر کر قرائت فرماتے رہے، جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہے تو سبحان اللہ کہتے اور جب سوال (کرنے والی آیت) سے گزرتے (پڑھتے) تو سوال کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو (اللہ سے) پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع فرمایا اور سبحان ربی العظیم کہنے لگے، آپ کا رکوع (تقریباً) آپ کے قیام جتنا تھا۔ پھر آپ نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا، پھر آپ لمبی دیر کھڑے رہے، تقریباً اتنی دیر جتنی دیر رکوع کیا تھا، پھر سجدہ کیا اور سبحان ربی الأعلى کہنے لگے اور آپ کا سجدہ (بھی) آپ کے قیام کے قریب تھا۔ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے کہا: (سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لك الحمد یعنی ربنا لك الحمد کا اضافہ ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1814]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 773 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، جَرِيرٌ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ، قَالَ: قِيلَ: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے اعمش سے اور انہوں نے ابووائل سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے اتنی لمبی نماز پڑھی کہ میں نے ایک ناپسندیدہ کام کا ارادہ کر لیا۔ کہا: تو ان سے پوچھا گیا آپ نے کس بات کا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں اور آپ کو (اکیلے ہی قیام کی حالت میں) چھوڑ دوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1815]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1815 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، جَرِيرٌ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ، قَالَ: قِيلَ: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے اعمش سے اور انہوں نے ابووائل سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے اتنی لمبی نماز پڑھی کہ میں نے ایک ناپسندیدہ کام کا ارادہ کر لیا۔ کہا: تو ان سے پوچھا گیا آپ نے کس بات کا ارادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں اور آپ کو (اکیلے ہی قیام کی حالت میں) چھوڑ دوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1815]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 773 صحیح مسلم
إِسْمَاعِيل بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، الأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَاه إِسْمَاعِيل بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1816]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1816 صحیح مسلم
إِسْمَاعِيل بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، الأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَاه إِسْمَاعِيل بْنُ الْخَلِيلِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1816]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة