بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 591 صحیح مسلم
دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، الْوَلِيدُ ، الأَوْزَاعِيِّ ، أَبِي عَمَّارٍ اسْمُهُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ اسْمُهُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ، اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ "، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ، كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ولید نے اوزاعی سے، انہوں نے ابوعمار (ان کا نام شداد بن عبداللہ ہے) سے، انہوں نے ابواسماء سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور اس کے بعد کہتے: «اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تو صاحب عظمت و برکت ہے، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے! ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: استغفار کیسے کیا جائے؟ انہوں نے کہا: استغفر اللہ، استغفر اللہ کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1334]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1334 صحیح مسلم
دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، الْوَلِيدُ ، الأَوْزَاعِيِّ ، أَبِي عَمَّارٍ اسْمُهُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ اسْمُهُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ، اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ "، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ، كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ولید نے اوزاعی سے، انہوں نے ابوعمار (ان کا نام شداد بن عبداللہ ہے) سے، انہوں نے ابواسماء سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور اس کے بعد کہتے: «اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تو صاحب عظمت و برکت ہے، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے! ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: استغفار کیسے کیا جائے؟ انہوں نے کہا: استغفر اللہ، استغفر اللہ کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1334]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 592 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَلَّمَ، لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ، مَا يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابومعاویہ نے عاصم سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف یہ ذکر پڑھنے تک ہی (قبلہ رخ) بیٹھتے: «اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تو صاحب عظمت و برکت ہے، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے! ابن نمیر کی روایت میں: «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1335]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1335 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَلَّمَ، لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ، مَا يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابومعاویہ نے عاصم سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف یہ ذکر پڑھنے تک ہی (قبلہ رخ) بیٹھتے: «اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تو صاحب عظمت و برکت ہے، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے! ابن نمیر کی روایت میں: «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1335]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 592 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَاصِمٍ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخالد احمر نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1336]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1336 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَاصِمٍ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الأَحْمَرَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخالد احمر نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1336]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 592 صحیح مسلم
عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَخَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَخَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ كِلَاهُمَا، عَنِ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عاصم اور خالد سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر وہ (شعبہ) «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1337]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1337 صحیح مسلم
عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَخَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَخَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ كِلَاهُمَا، عَنِ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عاصم اور خالد سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن حارث سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر وہ (شعبہ) «يا ذا الجلال والإكرام» (یا کے اضافے کے ساتھ) کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1337]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 593 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، وَرَّادٍ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے (ان کے مطالبے پر) معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے تو فرماتے: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو روک لے کوئی اسے دے سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1338]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1338 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، وَرَّادٍ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے (ان کے مطالبے پر) معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر سلام پھیرتے تو فرماتے: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو روک لے کوئی اسے دے سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1338]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 593 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، وَرَّادٍ ، الْمُغِيرَةِ ، أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، الْمُغِيرَةُ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: فَأَمْلَاهَا عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ ، وَكَتَبْتُ بِهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اور احمد بن سنان نے ہمیں حدیث بیان کی، ان سب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی۔ ابوبکر اور ابوکریب نے اپنی روایت میں: (وراد نے) کہا: مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات مجھے لکھوائی اور میں نے یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ بھیجی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1339]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1339 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، وَرَّادٍ ، الْمُغِيرَةِ ، أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، الْمُغِيرَةُ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ: فَأَمْلَاهَا عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ ، وَكَتَبْتُ بِهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اور احمد بن سنان نے ہمیں حدیث بیان کی، ان سب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ وراد سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی۔ ابوبکر اور ابوکریب نے اپنی روایت میں: (وراد نے) کہا: مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات مجھے لکھوائی اور میں نے یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ بھیجی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1339]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 593 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، وَرَّادًا ، الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ حِينَ سَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، إِلَّا قَوْلَهُ: وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن عون نے ابوسعید سے، انہوں نے وراد سے (جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے) روایت کی، کہا: معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا (مسئلہ دریافت کیا) (آگے منصور اور اعمش کی حدیث کے مطابق ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1340]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1340 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، وَرَّادًا ، الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ حِينَ سَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، إِلَّا قَوْلَهُ: وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن عون نے ابوسعید سے، انہوں نے وراد سے (جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے) روایت کی، کہا: معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا (مسئلہ دریافت کیا) (آگے منصور اور اعمش کی حدیث کے مطابق ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1340]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 593 صحیح مسلم
حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَزْهَرُ ، ابْنِ عَوْنٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، وَرَّادٍ
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ وَرَّادٍ ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1341]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1341 صحیح مسلم
حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَزْهَرُ ، ابْنِ عَوْنٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، وَرَّادٍ
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ وَرَّادٍ ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1341]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 593 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، سُفْيَانُ ، عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَرَّادًا ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، سَمِعَا وَرَّادًا كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1342]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1342 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، سُفْيَانُ ، عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَرَّادًا ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، سَمِعَا وَرَّادًا كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے کہا: ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، اللہم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا اور یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1342]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 594 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، حِينَ يُسَلِّمُ " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ "، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے ابوزبیر سے حدیث سنائی، کہا: (عبداللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، لا حول ولا قوة إلا باللہ، لا إلہ إلا اللہ، ولا نعبدإلا إیاہ، لہ النعمة ولہ الفضل، ولہ الثناء الحسن، لا إلہ إلا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکافرون۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے (ملتی) ہے، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتے، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے، خوبصورت تعریف کا سزاوار بھی وہی ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں، چاہے کافر اس کو (کتنا ہی) ناپسند کریں۔ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے بعد بلند آواز سے «لا إلہ إلا اللہ» والے یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1343]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1343 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، حِينَ يُسَلِّمُ " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ "، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد کے والد عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے ابوزبیر سے حدیث سنائی، کہا: (عبداللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہما سلام پھیر کر ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر، لا حول ولا قوة إلا باللہ، لا إلہ إلا اللہ، ولا نعبدإلا إیاہ، لہ النعمة ولہ الفضل، ولہ الثناء الحسن، لا إلہ إلا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکافرون۔ ایک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی حکومت اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہوں سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی قوت اللہ ہی سے (ملتی) ہے، اس کے سوا کوئی الہ و معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتے، ہر طرح کی نعمت اور سارا فضل و کرم اسی کا ہے، خوبصورت تعریف کا سزاوار بھی وہی ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اس کے لیے دین میں اخلاص رکھنے والے ہیں، چاہے کافر اس کو (کتنا ہی) ناپسند کریں۔ اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر نماز کے بعد بلند آواز سے «لا إلہ إلا اللہ» والے یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1343]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة