بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بیٹھنے بیٹھے سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حیض کے احکام و مسائل باب: بیٹھنے بیٹھے سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 376 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَجِيٌّ لِرَجُلٍ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ: وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُنَاجِي الرَّجُلَ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث دونوں نے عبدالعزیز سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی سے بہت قریب ہو کر آہستہ آہستہ بات کر رہے تھے۔ (عبدالوارث کی روایت میں ورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نجی لرجل کے بجائے ونبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یناجی الرجل آپ ایک آدمی سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے ہے۔ مفہوم ایک ہے) تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ (بیٹھے بیٹھے) سو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 833]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 833 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَجِيٌّ لِرَجُلٍ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ: وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُنَاجِي الرَّجُلَ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث دونوں نے عبدالعزیز سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی سے بہت قریب ہو کر آہستہ آہستہ بات کر رہے تھے۔ (عبدالوارث کی روایت میں ورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نجی لرجل کے بجائے ونبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یناجی الرجل آپ ایک آدمی سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے ہے۔ مفہوم ایک ہے) تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ (بیٹھے بیٹھے) سو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 833]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 376 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلًا، فَلَمْ يَزَلْ يُنَاجِيهِ، حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی سے سرگوشی فرما رہے تھے۔ آپ اس سے سرگوشی فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ کے ساتھی (بیٹھے بیٹھے) سو گئے، اس کے بعد آپ آئے اور انہیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 834]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 834 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلًا، فَلَمْ يَزَلْ يُنَاجِيهِ، حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی سے سرگوشی فرما رہے تھے۔ آپ اس سے سرگوشی فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ کے ساتھی (بیٹھے بیٹھے) سو گئے، اس کے بعد آپ آئے اور انہیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 834]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 376 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: " كَان أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ، ثُمَّ يُصَلُّونَ، وَلَا يَتَوَضَّئُونَ "، قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ (بیٹھے بیٹھے) سو جاتے تھے، پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے۔ (شعبہ کہتے ہیں:) میں نے (قتادہ سے) پوچھا: آپ نے یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اللہ کی قسم! [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 835]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 835 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: " كَان أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ، ثُمَّ يُصَلُّونَ، وَلَا يَتَوَضَّئُونَ "، قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ (بیٹھے بیٹھے) سو جاتے تھے، پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے۔ (شعبہ کہتے ہیں:) میں نے (قتادہ سے) پوچھا: آپ نے یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اللہ کی قسم! [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 835]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 376 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَبَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " أُقِيمَتِ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَالَ رَجُلٌ: لِي حَاجَةٌ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ، أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّوْا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی تو ایک آدمی نے (رسول اللہ سے) کہا: میرا ایک کام ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرنے لگے حتیٰ کہ لوگ یا کچھ لوگ (بیٹھے بیٹھے) سو گئے، پھر سب نے نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 836]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 836 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَبَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " أُقِيمَتِ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَالَ رَجُلٌ: لِي حَاجَةٌ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ، أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّوْا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی تو ایک آدمی نے (رسول اللہ سے) کہا: میرا ایک کام ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرنے لگے حتیٰ کہ لوگ یا کچھ لوگ (بیٹھے بیٹھے) سو گئے، پھر سب نے نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 836]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة