زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَجِيٌّ لِرَجُلٍ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ: وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُنَاجِي الرَّجُلَ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث دونوں نے عبدالعزیز سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی سے بہت قریب ہو کر آہستہ آہستہ بات کر رہے تھے۔ (عبدالوارث کی روایت میں ورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نجی لرجل کے بجائے ونبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یناجی الرجل آپ ایک آدمی سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے ہے۔ مفہوم ایک ہے) تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ (بیٹھے بیٹھے) سو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 833]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة