بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بے وضو کھانا درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اور وضو فی الفور واجب نہیں ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حیض کے احکام و مسائل باب: بے وضو کھانا درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اور وضو فی الفور واجب نہیں ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 374 صحیح مسلم
يَحْيَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادٌ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ، فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ، فَأَتَوَضَّأَ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد نے عمرو سے، انہوں نے سعید بن حویرث سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (ہاتھ دھو کر) بیت الخلاء سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: (کیا) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 827]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 827 صحیح مسلم
يَحْيَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادٌ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ، فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ، فَأَتَوَضَّأَ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد نے عمرو سے، انہوں نے سعید بن حویرث سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (ہاتھ دھو کر) بیت الخلاء سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: (کیا) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 827]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 374 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ مِنَ الْغَائِطِ، وَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: لِمَ أَأُصَلِّي، فَأَتَوَضَّأَ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے عمرو سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہتے تھے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ قضائے حاجت کی جگہ سے (ہاتھ دھو کر) آئے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: کس لیے؟ کیا مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 828]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 828 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ مِنَ الْغَائِطِ، وَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: لِمَ أَأُصَلِّي، فَأَتَوَضَّأَ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے عمرو سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہتے تھے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ قضائے حاجت کی جگہ سے (ہاتھ دھو کر) آئے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: کس لیے؟ کیا مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 828]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 374 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ مَوْلَى آلِ السَّائِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا جَاءَ، قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَوَضَّأُ؟ قَالَ: لِمَ أَلِلصَّلَاةِ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو (یہ) کہتے ہوئے سنا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 829]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 829 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ مَوْلَى آلِ السَّائِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا جَاءَ، قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَوَضَّأُ؟ قَالَ: لِمَ أَلِلصَّلَاةِ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو (یہ) کہتے ہوئے سنا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 829]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 374 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَأَكَلَ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً، قَالَ: وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ، قَالَ: مَا أَرَدْتُ صَلَاةً فَأَتَوَضَّأَ؟ "، وَزَعَمَ عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت الخلاء والی ضرورت پوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا اور پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور ابن جریج کا قول ہے کہ مجھے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث سے چیز زائد بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا: میں نے نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں کیا، کہ وضو کروں۔ اور عمرو کا قول ہے اس نے سعید بن حویرث سے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 830]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 830 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَأَكَلَ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً، قَالَ: وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ، قَالَ: مَا أَرَدْتُ صَلَاةً فَأَتَوَضَّأَ؟ "، وَزَعَمَ عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت الخلاء والی ضرورت پوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا اور پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور ابن جریج کا قول ہے کہ مجھے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث سے چیز زائد بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا: میں نے نماز پڑھنے کا ارادہ نہیں کیا، کہ وضو کروں۔ اور عمرو کا قول ہے اس نے سعید بن حویرث سے سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 830]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة