يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ مَوْلَى آلِ السَّائِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا جَاءَ، قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَوَضَّأُ؟ قَالَ: لِمَ أَلِلصَّلَاةِ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو (یہ) کہتے ہوئے سنا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا، آپ سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا: ”کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 829]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة