أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، خَبَّابٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " كَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لِي: لَنْ أَقْضِيَكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي لَنْ أَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ حَتَّى تَمُوتَ، ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ، فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ وَوَلَدٍ، قَالَ وَكِيعٌ: كَذَا، قَالَ الْأَعْمَشُ: قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا إِلَى قَوْلِهِ وَيَأْتِينَا فَرْدًا سورة مريم آية 77 - 80 "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوضحیٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت خباب (بن ارت رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے قرض کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا: میں اس وقت تک تمہیں ادائیگی نہیں کروں گا۔ یہاں تک کہ تم نعوذ بالله محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انکار کرو۔ کہا: میں نے اس سے کہا: تم مر کر دوبارہ زندہ ہو جاؤ گے۔ پھر بھی میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: اور میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟ تو (اس وقت) جب میں دوبارہ مال اور اولاد کے پاس پہنچ جاؤں گا تو تمہیں ادائیگی کر دوں گا۔ وکیع نے کہا: اعمش نے اسی طرح کہا: انہوں نے کہا: اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا» ”کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات سے کفر کیا اور کہا: مجھے (اپنا) مال اور (اپنی) اولاد لازماً دی جائے گی“ سے لے کر اس (اللہ) کے فرمان «وَيَأْتِينَا فَرْدًا» ”اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا“ تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7062]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة