أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے عبداللہ بن ادریس سے سنا وہ کہہ رہے تھے، میں نے اعمش سے سنا وہ اس روایت کو عبداللہ بن مرہ سے اور وہ مسروق سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کے درختوں میں (کھجور کی) ایک شاخ کا سہارا لیے ہوئے (چلے جا رہے) تھے پھر اعمش سے ان سب کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور انہوں نے اپنی روایت میں مشہور اور متواتر قرآءت کے مطابق «وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» ”اور تمہیں علم سے بہت کم دیا گیا ہے“ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7061]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة