مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ، قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:”(پہلے) انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے فروکش ہوئے انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ان کی پوری آبادی کے بارے میں حکم دیا، اسے نیچے سے (کھود کر) نکال لیا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اس (پوری آبادی) کو آگ سے جلا دیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: (اس ایک ہی کو کیوں (سزا) نہ (دی؟)“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5851]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة