قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:”(پہلے) انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے (آرام کرنے کے لیے سواری سے) اترے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا۔ انہوں نے اس کے پورے بل کے بارے میں حکم دیا، اسے نیچے سے نکل دیا گیا پھر حکم دیا ان کو جلا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ نے ایک ہی چیونٹی کو کیوں (سزا) نہ (دی؟)“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5850]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة