عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ ، أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ، وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ "، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا، فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی:”سانپوں کو قتل کردو اور (خصوصاً) دو سفید لکیروں والے اور دم بریدہ کو، کیونکہ یہ حمل گرادیتے ہیں اور بصارت زائل کردیتے ہیں۔“(سالم نے) کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ بن عبدالمنذر یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے تو انہوں نے کہا: لمبی مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو (فوری طور پر) مار دینے سے منع کیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5825]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة