بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 5797 — باب: بیماری لگ جانا اور بدشگونی، ہامہ، صفر، اور نوء غول یہ سب لغو ہیں، اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں۔
کتب صحیح مسلم سلامتی اور صحت کا بیان باب: بیماری لگ جانا اور بدشگونی، ہامہ، صفر، اور نوء غول یہ سب لغو ہیں، اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں۔ حدیث 5797
حدیث نمبر: 5797 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ "، وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْر ِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ " وَلَا صَفَرَ "، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: الصَّفَرُ الْبَطْنُ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: كَيْفَ؟، قَالَ: كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ، قَالَ: وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: هَذِهِ الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگ جاتا، نہ صفر (کی نحوست) اور چھلاوا کوئی چیز ہے۔ (ابن جریج نے کہا:) میں نے ابوزبیر کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان (وَلَا صَفَر) کی وضاحت کی، ابوزبیر نے کہا: صفر پیٹ (کی بیماری) ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: کیسے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ اس سے پیٹ کے اندر بننے والے جانور مراد ہیں۔ کہا: انہوں نے غول کی تشریح نہیں کی، البتہ ابوزبیر نے کہا: یہ غول (وہی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے) جو رنگ بدلتا ہے (اور مسافروں کو راستے سے بھٹکا کر مار ڈالتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5797]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (5796) باب پر واپس اگلی حدیث (5798) →