مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ "، وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْر ِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ " وَلَا صَفَرَ "، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: الصَّفَرُ الْبَطْنُ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: كَيْفَ؟، قَالَ: كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ، قَالَ: وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: هَذِهِ الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگ جاتا، نہ صفر (کی نحوست) اور چھلاوا کوئی چیز ہے۔“ (ابن جریج نے کہا:) میں نے ابوزبیر کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان ”(وَلَا صَفَر)“ کی وضاحت کی، ابوزبیر نے کہا: صفر پیٹ (کی بیماری) ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: کیسے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ اس سے پیٹ کے اندر بننے والے جانور مراد ہیں۔ کہا: انہوں نے غول کی تشریح نہیں کی، البتہ ابوزبیر نے کہا: یہ غول (وہی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے) جو رنگ بدلتا ہے (اور مسافروں کو راستے سے بھٹکا کر مار ڈالتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5797]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة