أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَقَالَ: فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ، وَقَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْرِجْهُ وَلَمْ يَقُلْ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی، کہا، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جادو کیا گیا۔ اس کے بعد ابوکریب نے واقعے کی تفصیلات سمیت ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کنوئیں کی طرف تشریف لے گئے، اسے دیکھا، اس کنوئیں پر کھجور کے درخت تھے (جنہیں کسی زمانے میں کنوئیں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہوگا) انہوں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اسے نکالیں (اور جلا دیں) ابوکریب نے: ”آپ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟“ کے الفاظ نہیں کہے اور یہ الفاظ (بھی) بیان نہیں کیے: ”میں نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کو پاٹ دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5704]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة