سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي الْأُمَوِيُّ ، أَبِي ، سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْر ٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ: " ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ "، قَالَ: فَعَادَ كَمَا كَانَ، فَقَالَ دُونَكُمْ هَذَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید اموی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے اس کے آخر میں یوں کہا: جو بچا تھا آپ نے اسے لے کر اکٹھا کیا پھر اس میں برکت کی دعا کی کہا: تو وہ (پھر سے) اتنا ہی ہو گیا جتنا تھا پھر فرمایا: ”تمہارے لیے ہے۔“ (آپ نے کھانے کے آغاز میں بھی برکت کی دعا کی اور آخر میں بھی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5318]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة