أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ طَعَامًا، قَالَ: فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ، فَنَظَرَ إِلَيَّ فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقُلْتُ: أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ لِلنَّاسِ:" قُومُوا"، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا صَنَعْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ:" أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً"، وَقَالَ:" كُلُوا وَأَخْرَجَ لَهُمْ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ" فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَخَرَجُوا، فَقَالَ:" أَدْخِلْ عَشَرَةً"، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ثُمَّ هَيَّأَهَا، فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلانے کے لیے آپ کے پاس بھیجا، انہوں نے کھانا تیار کیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے شرم آئی، میں نے کہا: ”حضرت ابوطلحہ کی دعوت قبول فرمائیے۔“ اس پر آپ نے لوگوں سے کہا: ”اٹھو۔“ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے تو آپ کے لیے (کھانے کی) کچھ تھوڑی سی چیز تیار کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: ”میرے ساتھیوں میں سے دس کو اندر لاؤ“ اور (ان سے) فرمایا: ”کھاؤ“ اور آپ نے ان کے لیے اپنی انگلیوں کے درمیان سے کچھ نکالا تھا (برکت شامل کی تھی)، سو انہوں نے کھایا، سیر ہو گئے، اور باہر چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر لاؤ۔“ پھر انہوں نے کھایا، سیر ہو گئے اور چلے گئے، وہ دس دس کو اندر لاتے اور دس دس کو باہر بھیجتے رہے، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی باقی نہ بچا مگر سب نے کھا لیا اور سیر ہو گئے، پھر اس کو سمیٹا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا ان کے کھانے (کے آغاز) کے وقت تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5317]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة