مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سفیان (ثوری) رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا لقمہ گر جائے تو وہ اسے اٹھا لے اور اس پر جو ناپسندیدہ چیز (تنکا، مٹی) لگی ہے اس کو اچھی طرح صاف کر لے اور اسے کھا لے، اس لقمے کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور جب تک اپنی انگلیوں کو چاٹ نہ لے، اس وقت تک اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5301]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة