مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ بِهَا فَكُفِئَتْ وَذَكَرَ سَائِرَ الْقِصَّةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زائدہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پوری بیان کی اور اس میں کہا: (ہم نے عرض کی،) ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں (کی کھپچیوں) سے جانور ذبح کر لیں۔ شعبہ نے سعید بن مسروق سے انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع سے انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا (ہم نے عرض کی:) اللہ کے رسول اللہ! کل ہم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں پھر حدیث بیان کی، البتہ اس میں یہ نہیں کہا: ”لوگوں نے جلد بازی کی اور ان کے گوشت سے ہانڈیاں ابالنے لگے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں الٹ دیا گیا۔“ اور انہوں نے باقی سارا قصہ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5096]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة