عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ؟، فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، فَقَالَ: آنْتَ أَبُو جَهْلٍ؟، فَقَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوَ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل ابن علیہ نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری خاطر کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟“ اس پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دو بیٹوں نے اس کو تلواروں کا نشانہ بنا چکا تھا اور اس کا جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی داڑھی پکڑ کر کہا: تو ابوجہل ہے؟ ابوجہل نے کہا: کیا اس سے بڑے کسی شخص کو بھی تم نے قتل کیا ہے؟۔۔ یا کہا۔۔ اس کی قوم نے قتل کیا ہے؟ (سلیمان تیمی نے) کہا: ابومجلز نے کہا: ابوجہل نے یہ بھی کہا تھا: کاش! مجھے کسانوں کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4662]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة