بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 4619 — باب: جنگ حنین کا بیان۔
کتب صحیح مسلم جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے باب: جنگ حنین کا بیان۔ حدیث 4619
حدیث نمبر: 4619 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً، فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَى عَنِّي، فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى، فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالْأُخْرَى، فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا، وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَى ابْنُ الْأَكْوَعِ فَزَعًا، فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، فَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ، فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ حنین کی جنگ لڑی، جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو میں آگے بڑھا پھر میں ایک گھاٹی پر چڑھ جاتا ہوں، میرے سامنے دشمن کا آدمی آیا تو میں اس پر تیر پھینکتا ہوں، وہ مجھ سے چھپ گیا، اس کے بعد مجھے معلوم نہیں اس نے کیا کیا۔ میں نے (ان) لوگوں کا جائزہ لیا تو دیکھا وہ ایک دوسری گھاٹی کی طرف ظاہر ہوئے، ان کا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں کا ٹکراؤ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی پیچھے ہٹ گئے اور میں بھی شکست خوردہ لوٹتا ہوں۔ میرے (جسم) پر دو چادریں تھیں، ان میں سے ایک کا میں نے تہبند باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھ رکھا تھا تو میرا تہبند کھل گیا، میں نے ان دونوں کو اکٹھا کیا اور شکست خوردگی کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ اپنے سفید خچر پر تھے۔ (مجھے دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اکوع کا بیٹا گھبرا کر لوٹ آیا ہے۔ جب وہ ہر طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر حملہ آور ہوئے تو آپ خچر سے نیچے اترے، زمین سے مٹی کی ایک مٹھی لی، پھر اسے سامنے کی طرف سے ان کے چہروں پر پھینکا اور فرمایا: چہرے بگڑ گئے۔ اللہ نے ان میں سے کسی انسان کو پیدا نہیں کیا تھا مگر اس ایک مٹھی سے اس کی آنکھیں بھر دیں، سو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے، اللہ نے اسی (ایک مٹھی خاک) سے انہیں شکست دی اور (بعد ازاں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے اموالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4619]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (4618) باب پر واپس اگلی حدیث (4620) →