ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، حَنْظَلَةُ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، رَجُلًا آدَمَ سَبِطَ الرَّأْسِ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَجُلَيْنِ، يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، لَا نَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَ: وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ، جَعْدَ الرَّأْسِ، أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حنظلہ نے سالم کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کعبہ کے پاس ایک گندم گوں، سر کے سیدھے کھلے بالوں والے آدمی کو دیکھا جو اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں پر رکھے ہوئے تھا، اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا (یا اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے)، میں نے پوچھا: ’یہ کون ہیں؟‘ تو انہوں نے (جواب دینے والوں نے) کہا: ’عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم‘ (راوی کو یاد نہ تھا کہ دونوں میں سے کون سا لفظ کہا تھا) اور ان کے پیچھے میں نے ایک آدمی دیکھا: سرخ رنگ کا، سر کے بال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا، میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے، ان میں سب سے زیادہ ابن قطن اس کے مشابہ ہے۔ میں نے پوچھا: ’یہ کون ہے؟‘ انہوں نے کہا: ’مسیح دجال ہے۔‘“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 427]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة