قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا، فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ، وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ، وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ، وَلَتُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا، وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ، وَالتَّبَاغُضُ، وَالتَّحَاسُدُ، وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ، فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یقیناً عیسیٰ بن مریم علیہ السلام عادل حاکم (فیصلہ کرنے والے) بن کر اتریں گے، ہر صورت میں صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے، جو ان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے محنت و مشقت نہیں لی جائے گی (دوسرے وسائل میسر آنے کی وجہ سے ان کی محنت کی ضرورت نہ ہو گی) لوگوں کے دلوں سے عداوت، باہمی بغض و حسد ختم ہو جائے گا، لوگ مال (لے جانے) کے لیے بلائے جائیں گے لیکن کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 391]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة