إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، قَالَ: لَا يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ باہر نکل کر قافلے والوں سے ملا جائے اور اس سے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے۔ (طاوس نے) کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کے فرمان: ”کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے (بیع نہ کرے)“ کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس کا دلال نہ بنے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3825]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة