حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، إِذْ قَالَ: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260، قَالَ: وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ، لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں، جب انہوں نے کہا تھا: «رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ» ”اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «أَوَلَمْ تُؤْمِن» ”کیا تمہیں یقین نہیں؟“ کہا: «بَلَىٰ وَلَٰكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي» ”کیوں نہیں! لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔““ آپ نے فرمایا: ”اور اللہ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، (وہ کسی سہارے کی تمنا کر رہے تھے) حالانکہ انہوں نے ایک مضبوط سہارے کی پناہ لی ہوئی تھی۔ اور اگر میں قید خانے میں یوسف علیہ السلام جتنا طویل عرصہ ٹھہرتا تو (ہو سکتا ہے) بلانے والے کی بات مان لیتا۔“ (عملاً آپ نے دوسرے انبیاء سے بڑھ کر ہی صبر و تحمل سے کام لیا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 382]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة