ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، رِبْعِيٍّ ، حُذَيْفَةُ
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ حُذَيْفَةُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ جَلَسَ فَحَدَّثَنَا، فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمْسِ، لَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ سَأَلَ أَصْحَابَهُ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْسِيرَ أَبِي مَالِكٍ لِقَوْلِهِ: مُرْبَادًّا مُجَخِّيًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مروان فزاری نے کہا: ہمیں ابومالک اشجعی نے حضرت ربعی سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: جب حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس سے آئے تو بیٹھ کر ہمیں باتیں سنانے لگے اور کہا: کل جب میں امیر المومنین کی مجلس میں بیٹھا تو انہوں نے اپنے رفقاء سے پوچھا: تم میں سے کس نے فتنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان یاد رکھا ہوا ہے؟ ...... پھر (مروان فزاری نے) ابوخالد کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی لیکن «مرباداً مجخياً» سے متعلق ابومالک کی تفسیر ذکر نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 370]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة