أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْمَلِيحِ ، مَعْقِلٌ
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ، عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ، لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوملیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد نے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کی تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں موت (کی راہ) میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی امیر جو مسلمانوں کے معاملات کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، پھر وہ ان (کی بہبود) کے لیے کوشش اور خیر خواہی نہیں کرتا، وہ ان کے ہمراہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 366]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة