هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا "، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ، وَغَيْرِ الْعُرْسِ، وَيَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”(مسلمان بھائیوں کی طرف سے دی جانے والی) اس دعوت کو، جب تمہیں اس کے لیے بلایا جائے، قبول کرو۔“ کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دعوت میں شریک ہوتے خواہ وہ شادی کی ہو یا شادی کے بغیر، اور وہ روزے کی حالت میں بھی اس میں آتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3516]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة