مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِي
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ: قَالَ أَبِي : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ: فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصْبَاءَ، فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: " هُوَ مَسْجِدُكُمْ هَذَا لِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حمید خراط سے روایت ہے، کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن ابی سعید خدری میرے ہاں سے گزرے تو میں نے ان سے کہا: آپ نے اپنے والد کو اس مسجد کے بارے میں جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، کس طرح ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: میرے والد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آپ کی ایک اہلیہ محترمہ کے گھر میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! دونوں مسجدوں میں سے کون سی (مسجد) ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ کہا: آپ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں زمین پر مارا پھر فرمایا: ”وہ تمہاری یہی مسجد ہے۔“ مدینہ کی مسجد کے بارے میں (ابوسلمہ نے) کہا: تو میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی تمہارے والد سے سنا، وہ اسی طرح بیان کر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3387]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة