مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَجَّاجٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، الْقَرَّاظَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا: حدثنا حَجَّاجٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ يُرِيدُ الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ، كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ "، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ يُحَنَّسَ: بَدَلَ قَوْلِهِ بِسُوءٍ: شَرًّا،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حاتم اور ابراہیم بن دینار نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا، ہم سے حجاج نے حدیث بیان کی، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی، انہوں (حجاج اور عبدالرزاق) نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے خبر دی کہ انہوں نے (ابوعبداللہ) قراظ سے سنا اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں (شاگردوں) میں سے تھے، وہ یقین سے کہتے تھے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ۔“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی۔ ”برائی کا ارادہ کیا، اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔“ ابن حاتم نے ابن یحس کی حدیث میں سوء (برائی) کی جگہ شر (نقصان) کا لفظ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3359]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة