حسن الحلواني ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ
وحَدَّثَنَا حسن الحلواني ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ عَبد، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ، أَوْ عَتَاقَةٍ، أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ، أَفِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْر ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(یونس کے بجائے) صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ ان اعمال کے بارے کیا فرماتے ہیں جو میں جاہلیت کے دور میں اللہ کی عبادت کے طور پر کیا کرتا تھا یعنی صدقہ و خیرات، غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی، کیا ان کا اجر ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھلائی کے کام تم پہلے کر چکے ہو تم ان سمیت اسلام میں داخل ہوئے ہو۔“ (تمہارے اسلام کے ساتھ وہ بھی شرف قبولیت حاصل کر چکے ہیں کیونکہ وہ بھی شہادتین کی تصدیق کرتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 324]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة