عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، مُطَرِّفٍ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ أَوَ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ: " يَا فُلَانُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا، یا کسی اور شخص سے پوچھا اور وہ سن رہے تھے: ”اے فلاں! کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں روزے رکھے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو جب (رمضان مکمل کر کے) روزے ترک کرو تو (ہر مہینے) دو دن کے روزے رکھتے رہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2745]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة