مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَيْءٌ، إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ؟، فَقَالَ: " ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عباد بن عبداللہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی، اے اللہ کے نبی! جو کچھ زبیر مجھے دے اس کے سوا میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں کہ جو وہ مجھے دے اس میں سے تھوڑا سا صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی طاقت کے مطابق تھوڑا بھی خرچ کرو اور برتن میں سنبھال کر نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے سنبھال کر رکھے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2378]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة