بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 219 — باب: علم کے باوجود اپنے باپ کے سوا اور کسی کا بیٹا کہلانے والے کے ایمان کا حال۔
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: علم کے باوجود اپنے باپ کے سوا اور کسی کا بیٹا کہلانے والے کے ایمان کا حال۔ حدیث 219
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، خَالِدٌ ، أَبِي عُثْمَانَ ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: سَمِعَ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: " مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ، يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد نے ابوعثمان سے نقل کیا کہ جب زیاد کی نسبت (ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف ہونے) کا دعویٰ کیا گیا تھا تو میں جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور پوچھا: یہ تم لوگوں نے کیا کیا؟ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جس نے اسلام کی حالت میں اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کو باپ بنانے کا دعویٰ کیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔ اس پر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خود میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 219]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (218) باب پر واپس اگلی حدیث (220) →