يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي "، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن زریع نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”اس کو تین، پانچ یا اگر تمہاری رائے ہو تو اس سے زائد مرتبہ پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور آخری بار میں کافور یا کافور میں سے کچھ ڈال دینا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کر دینا۔“ جب ہم فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: ”اس کو اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2168]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة