بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1834 — باب: نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کا حکم۔
کتب صحیح مسلم مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام باب: نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کا حکم۔ حدیث 1834
حدیث نمبر: 1834 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ: امْرَأَةٌ لَا تَنَامُ، تُصَلِّي، قَالَ: " عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ "، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: أَنَّهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ اور یحییٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک خاتون موجود تھیں، آپ نے پوچھا: "یہ کون ہے؟" میں نے کہا: یہ ایسی عورت ہے جو رات بھر نہیں سوتی، نماز پڑھتی رہتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اتنا عمل کرو جتنا تمہارے بس میں ہو، اللہ کی قسم! اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم ہی عمل سے اکتا جاؤ۔" اللہ کے ہاں دین کا وہی عمل پسند ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی کرے۔ ابواسامہ کی روایت میں ہے، یہ بنو اسد کی عورت تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1834]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1833) باب پر واپس اگلی حدیث (1835) →