بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1792 — باب: نماز اور دعائے شب۔
کتب صحیح مسلم مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام باب: نماز اور دعائے شب۔ حدیث 1792
حدیث نمبر: 1792 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، الضَّحَّاكُ ، مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقُلْتُ لَهَا: إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْقِظِينِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ الأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الأَيْمَنِ، فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي، قَالَ: " فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ احْتَبَى حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ضحاک نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں بسر کی، میں نے ان سے عرض کی: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھیں تو آپ مجھے بھی بیدار کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو میں آپ کی بائیں جانب کخڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کر دیا، جب مجھے جھپکی آنے لگتی تو آپ میرے کان کی لو پکڑ لیتے، آپ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے کمر اور پنڈلیوں کے گرد کپڑا لپیٹ کر اسے سہارا بنا لیا (اور سو گئے) یہاں تک کہ میں آپ کے سونے کی حالت میں آپ کے سانس لینے کی آواز سن رہا تھا۔ تو جب آپ کے سامنے صبح ظاہر ہوئی تو آپ نے ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1792]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1791) باب پر واپس اگلی حدیث (1793) →