مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ، إِلَّا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَوْ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ "، قَالَتْ أَمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا بَرِحْتُ، أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ؟ وقَالَ عَمْرٌو: مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ، وقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن اوس سے، انہوں نے عنبسہ بن ابی سفیان سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: ”کوئی ایسا مسلمان بندہ نہیں جو ہر روز اللہ کے لیے فرائض کے علاوہ بارہ رکعات سنتیں ادا کرتا ہے مگر اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے یا اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے۔“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اب تک انہیں مسلسل ادا کرتی آ رہی ہوں۔ عمرو نے کہا: میں اب تک ان کو ہمیشہ ادا کرتا آ رہا ہوں۔ نعمان نے بھی اس کے مطابق کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1696]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة