مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَيُخَفِّفُ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے کہا: مجھے محمد بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انہوں نے عمرہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کی (سنت) دو رکعتیں پڑھتے اور ان کو اتنا ہلکا پڑھتے کہ میں (دل میں) کہتی تھی: کیا آپ نے ان میں فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عموماً فاتحہ بھی بہت ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1684]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة