مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُمُّ هَانِئٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى، إِلَّا أُمُّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَصَلَّى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ، مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ، وَالسُّجُودَ "، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَهُ: قَطُّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے آپ کو کبھی اس سے ہلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، ہاں آپ رکوع اور سجود مکمل طریقے سے کر رہے تھے۔ ابن بشار نے اپنی روایت میں قط (کبھی) کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1667]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة