عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، إِسْمَاعِيل ، عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: إِذَا قُلْتَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَلَا تَقُلْ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قُلْ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ، قَالَ: فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَاكَ، فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ ذَا، قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُوا فِي الطِّينِ، وَالدَّحْضِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل (ابن علیہ) نے (ابن ابی سفیان) الزیادی کے ساتھی عبدالحمید سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے ایک بارش والے دن اپنے موذن سے فرمایا: جب تم «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» کہہ چکو تو «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نہ کہنا (بلکہ) «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ» (اپنے گھروں میں نماز پڑھو) کہنا۔ کہا: لوگوں نے گویا اسے ایک غیر معروف کام سمجھا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ یہ کام انہوں نے کیا جو مجھ سے بہت زیادہ بہتر تھے۔ جمعہ پڑھنا لازم ہے اور مجھے برا معلوم ہوا کہ میں تمہیں تنگی میں مبتلا کروں اور تم کیچڑ اور پھسلن میں چل کر آؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1604]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة