عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ الصَّلَاةَ أَوَّلَ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: مَا بَالُ عَائِشَةَ، تُتِمُّ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ كَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن عینیہ نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ابتدا میں نماز دو رکعت فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز (اسی حالت میں) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز مکمل کر دی گئی۔ زہری نے کہا: میں نے عروہ سے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف کیا ہے، وہ سفر میں پوری نماز (کیوں) پڑھتی تھیں؟ انہوں نے کہا: انہوں نے اس کا ایک مفہوم لے لیا ہے جس طرح عثمان رضی اللہ عنہ نے لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1572]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة