أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، مَطَرٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبَا ذَرٍّ
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ : نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ، خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، عَنْ ذَلِكَ، فَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً "، قَالَ: وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مطر نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، کہا: میں نے عبداللہ بن صامت سے پوچھا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کی اقتدا میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ نماز کو مؤخر کر دیتے ہیں۔ تو انہوں نے زور سے میری ران پر ہاتھ مارا جس سے مجھے تکلیف محسوس ہوئی اور کہا: میں نے اس کے بارے میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے (بھی) میری ران پر ہاتھ مارا تھا اور کہا تھا: میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”نماز اس کے وقت پر ادا کر لو، پھر ان (حکمرانوں) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو۔“ کہا: عبداللہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (بھی) ابوذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1471]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة